1. فہرست مضامین
  2. نیوی گیشن
  3. مزید مضامین
  4. میٹا نیوی گیشن
  5. تلاش
  6. تیس زبانوں میں سے انتخاب کریں

 
 
 

 

 | 08.01.2009 | 03:00 UTC

غزہ پٹی کے بارے میں سلامتی کونسل میں ابھی بھی عدم اتفاق

غزہ پٹی کے علاقے میں جاری خونریز تنازعے کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایک بار پھر کسی اتفاق رائے تک پہنچنے میں ناکام رہی۔ کونسل کے سربراہ Jean Maurice Ripert نے  تین روزہ مشاورت کےاختتام پر بتایا کہ رکن ملکوں کے درمیان مذاکرات مزید غورفکر کے لئے عارضی طورمعطل کردیئےگئے ہیں۔ کونسل کے اجلاس میں تین مغربی ملکوں امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی طرف سے ایک ایسا مسودہ قرارداد پیش کیا گیا تھا جس میں فائر بندی کے حوالے سے مصراور فرانس کی مشترکہ تجویز کی حمایت کی گئی تھی لیکن عرب ریاستوں کا اصرار تھا کہ سلامتی کونسل بین الاقوامی قانون کے تحت ایک ایسی قرار داد منظور کرے جس کی پابندی اسرائیل کے لئے لازمی ہو۔ پیرس اور قاہرہ کی اس مشترکہ امن تجویز میں غزہ پٹی میں خونریزی کے خاتمے کے لئے محدود فائر بندی کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اسی دوران مشرق وسطیٰ کا دورہ کرنے والے یورپی وفد میں شامل یورپی یونین کی خارجہ امور کی نگران کمشنر بینیٹا فیریرو والڈنر نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم اس امر پر آمادہ ہو گئے ہیں کہ یورپی یونین کا ایک نمائندہ اسرائیلی وزارت دفاع میں اسی وزارت کے حکام کے ساتھ مل کر غزہ پٹی کے علاقے میں انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کو مربوط بنائے گا۔

غزہ کی جنگ میں پہلی مرتبہ مختصر فائر بندی

غزہ پٹی کے علاقے میں قریب دو ہفتے قبل شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران پہلی مرتبہ تین گھنٹے کے لئے فائر بندی دیکھنے میں آئی جس کا مقصد متاثرہ فلسطینی شہریوں کے لئے انسانی بنیادوں پر ادویات اور اشیائے خوراک کی فراہمی کو ممکن بنانا تھا۔ اسرائیلی قیادت نے فلسطینی علاقے پر فضائی اور زمینی حملے محض چند گھنٹے کے لئے روکنے کا یہ فیصلہ شدید بین الاقوامی دباؤ کے تحت کیا جس دوران حماس کی طرف سے بھی اسرائیل پر راکٹ حملوں سے اجتناب کیا گیا۔ اسرائیلی حکومت  نے اشارہ دیا ہے کہ آئندہ دنوں میں محدود عرصے کے لئے ایسے مزید فائربندی وقفے بھی ممکن ہیں۔ اس وقفے کے بعد مسلح حملوں کا سلسلہ دوبارہ جاری ہے۔ اب تک ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد سات سو سے تجاوز کرگئی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے نصف کے قریب خواتین اور 18 برس سے کم عمر کے نوجوان ہیں۔ تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق غزہ پٹی کے شہر رفاہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی ایک مسجد پر کی جانے والی بمباری میں 15 پندرہ افراد زخمی ہوگئے جس کے جواب میں حماس کی طرف سے اسرائیلی شہروں Ashkelon اور Beersheba پر نئے راکٹ حملے بھی کئے گئے۔

غزہ پٹی کی حالت نازی کیمپوں کی سی، ویٹی کن کا مؤقف

ویٹی کن کے انسانی حقوق سے متعلقہ امور کے عہدے دار کارڈینل ریناٹو مارٹینو کے بقول غزہ پٹی کی موجودہ صورت حال نازی دور کے کسی اذیتی کیمپ کی سی ہے۔ کارڈینل مارٹینو نے ایک اخبار کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کہا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے فریقین اپنےا پنے انا پرستانہ مفادات کے حصول کی کوششیں کررہے ہیں جس کی وجہ سے نفرت، غربت اور ناانصافی ختم نہیں ہورہی اور غزہ کی پوری پٹی کی صورت حال ایک بہت بڑے نازی اذیتی کیمپ کی سی ہو چکی ہے۔

گیس کے تنازعے میں روس کا غیر جانبدار مبصرین کی موجودگی پر اصرار

روس یوکرائن کے راستے مغربی ملکوں کو فراہم کی جانے والی گیس کی برآمدات، جو بدھ کے دن روک دی گئی تھیں، صرف اسی صورت میں بحال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جب پہلے غیر جانبدار مبصرین یہ جائزہ لیں کہ یوکرائن کے راستے فراہم کی جانے والی روسی گیس کا حجم کتنا ہے۔ روسی وزیر اعظم ولادیمیر پوٹین نے کہا کہ ان معائنہ کاروں کو یوکرائن میں گیس کی مبینہ چوری کو روکنا چاہیئے۔ یوکرائن نے جسے قیمتوں سے متعلق تنازعے کے بعد روسی گیس کی براہ راست فراہمی معطل کی جاچکی ہے، ماسکو کے ان دعووں کی تردید کی ہے۔ یورپی یونین اور جرمن چانسلر میرکل کی طرف سے دباؤ کے بعد ماسکو اور کی ایف دونوں ہی غیر جانبدار مبصرین کی تعیناتی پر رضامند ہوگئے ہیں۔ روسی گیس کی فراہمی میں تعطل کی وجہ سے بہت سے یورپی ملک بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

معیشی بحران کے روزگار کی جرمن منڈی پر منفی اثرات

جرمنی میں مالیاتی بحران کے معیشت پرمنفی اثرات نے اب روزگار کی ملکی منڈی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ دسمبر میں جرمنی میں بے روزگار افراد کی تعداد میں ایک لاکھ چودہ ہزار کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یوں گذشتہ برس کے آخری مہینے میں ملک میں بے روزگار افراد کی مجموعی تعداد 3.1 ملین سے کچھ زائد یا مجموعی افرادی قوت کے 7.4  فیصد تک پہنچ گئی۔

جرمن کاروباری اداروں کے لئے بھی مالیاتی تحفظ کا حکومتی منصوبہ

مالیاتی بحران سے متاثرہ ملکی بینکوں کے لئے 500 بلین یورو کی ہنگامی ضمانتوں کے بعد وفاقی جرمن حکومت اب ملکی کاروباری اداروں کے لئے بھی ایسی ہی مالی ضمانتیں مہیا کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ جرمن پارلیمان میں وفاقی مخلوط حکومت میں شامل یونین جماعتوں کے حزب کے سربراہ فولکر کاؤڈر نے بون سے شائع ہونے والے ایک اخبارکے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ اس حوالے سے برلن حکومت ادائیگیوں کی جن ہنگامی ضمانتوں پرغورکررہی ہے ان کی مجموعی مالیت 100 بلین یورو تک ہوسکتی ہے۔

میرکلے گروپ کے لئے بینکوں کی طرف سے قرضوں کی منظوری

جرمنی کے مشہور صنعتی گروپ میرکلے کو اپنی شدید مالی مشکلات کے خلاف عارضی طور پر کچھ تحفظ مل گیا ہے۔ کئی مالیاتی اداروں نے اس گروپ کو فوری طور پر 400 ملین یورو کے عبوری قرضے دینے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ اس صنعتی گروپ کی بین الاقوامی مالیاتی بحران سے پہلے سالانہ آمدنی تقریبا 30 بلین یورو بنتی تھی مگر شدید مالی مشکلات کے باعث اس ادارے کے سربراہ آڈولف میرکلے نے ابھی دو روز قبل ہی خودکشی کرلی تھی۔

امریکی بجٹ میں ممکنہ سالانہ خسارے کی مالیت 1.2 ٹریلین ڈالر

امریکی آڈٹ بیورو کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ملکی بجٹ میں ممکنہ خسارہ  نئی حدوں کو چھوتے ہوئے 1.2 ٹریلین ڈالر ہوجائے گا۔ واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ریاستی بجٹ میں خسارے کی یہ مالیت مجموعی قومی پیداوار کے آٹھ فیصد سے بھی زائد بنتی ہے۔ اس خسارے میں تقریبا 775 بلین ڈالر مالیت کا وہ معیشی استحکامی پروگرام شامل نہیں ہے جس پرنومنتخب صدر باراک اوباما اسی مہینے اپنی حلف برداری کے بعد عمل درآمد کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔

گھانا میں نئے صدر نے حلف اٹھا لیا

گھانا میں اب تک اپوزیشن میں رہنے والے اورحال ہی میں دوسرے مرحلے کی رائے دہی میں سربراہ مملکت منتخب ہونے والے 64 سالہ سیاست دان John Atta-Mills نے ملکی صدر کے طورپر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ ریاستی دارالحکومت اکرا میں حلف برداری کی تقریب میں کئی افریقی ملکوں کے سربراہان نے شرکت کی۔

کربلا میں عاشورہ کی ماتمی تقریبات میں دو ملین افراد کی شرکت

عراقی شہر کربلا میں محرم کے مہینے میں مذہبی تقریبات کے نقطہ عروج پر یوم عاشور کے ماتمی اجتماعات میں لاکھوں شیعہ مسلمانوں نے شرکت کی۔ بغداد سے 110 کلومیٹر جنوب کی طرف واقع کربلا کے شہر میں سن 680 میں حضرت امام حسین کی المناک شہادت کو یاد کرنے والے ان زائرین کی تعداد عام اندازوں کے مطابق دو ملین کے قریب تھی اور ان کی حفاظت کے لئے 30 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار متعین تھے۔



 
آج کی تصویر
ImageOfTheDay

DW-TV EUROPE live

Journal (deutsch) - Mit Wirtschaft