1. فہرست مضامین
  2. نیوی گیشن
  3. مزید مضامین
  4. میٹا نیوی گیشن
  5. تلاش
  6. تیس زبانوں میں سے انتخاب کریں


 

ثقافت | 09.10.2008

ادب کا نوبل انعام: فرانسیسی ادیب کے نام

سن دو ہزار آٹھ کے نوبل انعام برائے ادب کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ اِس بار فرانسیسی ناول نگار کو یہ اعزاز دیا گیا ہے۔

فرانسیسی ادیب  Jean-Marie Gustave  Le Clezio  کو سن دو ہزار آٹھ  کے نوبل انعام برائے ادب سے نوازا گیا ہے۔ وہ تیرہ اپریل سن اُنیس سو چالیس میں فرانسیسی شہر Nice  میں پیدا ہوے تھے۔ انگریزی اور فرانسیسی زبان کے سائے تلے اُن کی پرورش ہوئی۔ اُنہوں نے کئی ملکوں کا سفر کر رکھا ہے جس سے تہذیبوں اور ثقافتوں کو سمجھنے میں آسانی حاصل ہوئی۔

نوبل انعام حاصل کرنے والے فرانسیسی ادیب کی نوجوانی کی تصویرBildunterschrift: Großansicht des Bildes mit der Bildunterschrift:  نوبل انعام حاصل کرنے والے فرانسیسی ادیب کی نوجوانی کی تصویر

 سن اُنیس سو پچاسی کے بعد وہ پہلے فرانسیسی ادیب ہیں جن کو نوبل انعام سے نوازا گیا۔ یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ سب سے پہلا ادب کا نوبل انعام بھی ایک فرانسیسی ادیب کو دیا گیا تھا۔ ویسے سن دو ہزار کا نوبل انعام برائے ادب ایک چینی ادیب  Gao Xingjian کو دیا گیا تھا جن کو فرانس کی شہریت سن اُنیس سو ستانوے میں ملی تھی لیکن عموماً اُن کو چینی ادیب تصور کیا جاتا ہے۔

چینی نژاد فرانسیسی ادیب جن کو سن دو ہزار کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔Bildunterschrift: Großansicht des Bildes mit der Bildunterschrift:  چینی نژاد فرانسیسی ادیب جن کو سن دو ہزار کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔

فرانسیسی ادیب  Jean-Marie Gustave  Le Clezio  نے تعلیم کے حصول کے دوران بھی ادب کا مطالعہ نصابی اور غیر نصابی سظح پر جاری رکھا۔ تیئس سال کی عمر میں اُن کا ناول The Deposition  شائع ہوا اور ادبی حلقوں میں کھلبل مچ گئی۔ اپنے مود اور پلاٹ کے حوالے سے یہ ایک شاندار تخلیق تھی اور اِس کو اُسی سال Prix Renaudot  معتبر انعام سے نوازا گیا۔ یہ ایک بہت بڑا اعزاز تصور کیا جاتا ہے اور اِس سے Jean-Marie Gustave  Le Clezio  فوراً ہی فرانسیسی ادبی منظر نامے کا ایک معتبر حوالہ بن گئے۔

اب تک اُن کے تیس کتابیں چھپ چکیں ہیں جن میں ناول اور مضامین شامل ہیں۔ ہندو دیو مالا پر بھی دو کتابیں لکھیں ہیں۔ اُن کا ادبی سفر دو حصوں پر مشتمل قرارد یا جا سکتا ہے جس میں ایک سن اُنیس سو تریسٹھ سے پچھتر تک جب وہ ادبی تجربوں کے عمل میں مصروف رہے۔ اِس دور میں وہ  Georges Perec  (فرانس کے یہودی نژاد ادیب جو اپنے ناولوں اور مضامین کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں، اِن کے ادبی کارناموں کو اہم فرانسیسی ادبی سرمایہ تصور کیا جاتا ہے۔)  اور   Michel Butor ( دوسری جنگ عظیم کے بعد کے مشہور فرانسیسی ادیب)   سے براہ راست متاثر نظر آتے ہیں۔ اِس بارہ سالہ دور میں زبان و بیان کے مختلف تجربوں کا عکاس اُن کی کئی کتابیں ہیں۔

کن فلمی میلے میں شریک ایرانی اداکارہ نکی کریمی کے ساتھ فرانسیسی ادیب Jean-Marie Gustave  Le Clezio  Bildunterschrift: Großansicht des Bildes mit der Bildunterschrift:  کن فلمی میلے میں شریک ایرانی اداکارہ نکی کریمی کے ساتھ فرانسیسی ادیب Jean-Marie Gustave Le Clezio

سن اُنیس سو پچتر کے بعد فرانسیسی ادیب Jean-Marie Gustave  Le Clezio   کے ادب پر ایک اختراع پسند اور معاشرے سے بیزار اور باغی کا پتہ چلتا ہے۔ اِس دور میں اُن کی تحریروں اور خیالات پر  Michel Foucault  (فرانسیسی ادیب، دانشور اور تاریخ دان، جن کے عصری فرانسیسی ادب پر خاصے اثرات محسوس کئے جاتے ہیں)  اور Gilles Deleuze ( فرانسیسی فلسفی)  کے اثرات واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔

نوبل انعام حاصل ہونے سے فبل ہی اُن کو ایک بڑا ادیب تو مانا جاتا تھا مگر فرانسیسیوں کی ایک انتہائی بڑں تعداد  Jean-Marie Gustave  Le Clezio  کو اِس دور کا سب سے بڑا فرانسیسی زبان کا ادیب مانتے ہیں ۔ یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ اِس بار اندازوں کے مطابق انعام اُس ادیب کو ملا جس کے نام پر عالمی ادبی حلقے متفق تھے۔

فرانسیسی ادیب  Jean-Marie Gustave  Le Clezio کو ادب کے نئے افق کا مصنف خیال کیا جاتا ہے جس میں قاری کو شاعرانہ ماحول کی مہم جوئی کے ساتھ حسیاتی مسرت کا حصول ملتا ہے۔ اُن کی ادبی کاوشوں کے بارے میں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ موجودہ تہذیب کے پُر آشوب دور میں انسانیت کے مخفی اور کھلے پہلووں کا احاطہ بھی کرتی ہیں۔

 
 
آرٹیکل بُک مارک کریں

فیڈ بیکبھیجیںپرنٹ کریں

Weitere Schlagzeilen